Searching...
Saturday, 28 September 2013

بسم اللہ کي تاثير



بسم اللہ کي تاثير

بادشاہ روم قيصر نے حضرت عمر فاروق رضي اللہ عنہ کي طرف ايک خط ميں لکھا کہ ميرے سر ميں درد رہتا ہے، کوئي علاج بتائيں۔
حشرت عمر رضي اللہ عنہہ نے اس کے پاس ٹوپي بھيجي کہ اسے سر پر رکھا کرو، سر کا درد جاتا رہے گا۔
چناچہ قيصر جب وہ ٹوپي سر پر رکھتا تو درد ختم ہوجاتا اور جب اتارتا تو درد دوبارہ لوٹ آتا۔
اسے بڑا تعجب ہوا، تجسس سے ٹوپي چيري تو اس کے اندر ايک رقعہ پايا جس پر بسم اللہ الرحمٰن الرحيم تحرير تھا۔
يہ بات قيصر روم کے بادشاہ کے دل ميں گھر کر گئي، کہنے لگا دين اسلام کس قدر معزز اس کي تو ايک آيت ہي باعث شفا ہے، پورا دين باعث نجات کيون نہ ہوگا اور اسلام قبول کرليا۔
ايک مرتبہ حضرت عيسي عليہ السلام کا گذر ايک قبر پر ہوا جس ميں ميت کو عذاب ديا جارہا تھا، دوبارہ وہاں سے گذر ہو اتو ديکھا کہ قبر ميں رحمت کے فرشتے ہيں ، عذاب کي تاريکي کے بجائے وہاں اب مغفرت کا نور ہے۔
آپ کو تعجب ہوا اللہ تعالي سے اس مسئلہ کا حل کرنے کي دعا کي تو اللہ تعالي نے ان کي طرف وحي بھیجي کہ يہ بندہ گنہگار تھا، جس کي وجہ سے عذاب ميں مبتلا تھا، اس کا بچہ مکتب ميں داخل کرديا گيا، استاد نے اسے پہلے دن
بسم اللہ الرحمٰن الرحيم 
پڑھائي تب مجھے اپنے بندے سے حيا آئي کہ ميں زمين کے اندر اسے عذاب ديتا ہوں جبکہ اسکا بيٹا زمين کے اوپر مير انام ليتا ہے۔

0 comments:

Post a Comment

 
Back to top!